نئی دہلی، 31؍ مئی (ایس او نیوز؍ایجنسی) پیر کی شام دہلی میں ہوئی طوفانی بارش کے نتیجے میں دو لوگوں کی موت واقع ہوگئی جبکہ تیز آندھی اور بارش کی وجہ سے جگہ جگہ درختوں کے ٹوٹ کر گرنے کے واقعات پیش آئے کئی جگہوں پر ٹریفک جام کا مسئلہ پیدا ہو گیا۔ حالانکہ اس بارش نے شدید گرمی سے لوگوں کو راحت پہنچائی ہے، لیکن دہلی-این سی آر میں کچھ عمارتوں کو نقصان پہنچنے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔ اس طوفانی بارش میں تاریخی جامع مسجد کے گنبد کا اوپری حصہ بھی ٹوٹ گیا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق مرنے والوں میں جامع مسجد کے قریبی علاقہ کا ایک پچاس سالہ شخص بھی شامل ہے جس پر چھت کا حصہ گرگیا تھا۔ جبکہ دوسرا شخص جس کی عمر 65 سال بتائی گئی ہے، نارتھ دہلی میں بارش کے نتیجے میں ہلاک ہوا ہے۔
سید احمد بخاری نے ایک انگریزی اخبار سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’’درمیانی گنبد کا اوپری حصہ تین حصوں میں ٹوٹ گیا ہے۔ دو حصہ نیچے گر گیا اور ایک ابھی تک اوپر ہی پھنسا ہوا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ’’اگر اوپر پھنسے ہوئے حصے کو نیچے نہیں لایا گیا اور وہ خود نیچے گرا تو اُس سے دیوار کو نقصان پہنچے گا۔ میں اے ایس آئی ڈائریکٹر جنرل کو ایک خط لکھ رہا ہوں جس میں تباہ شدہ حصے کو نیچے اتارے جانے کی گزارش کی جائے گی۔‘‘
سید احمد بخاری نے طوفانی بارش کی وجہ سے جامع مسجد کو ہوئے نقصان کے ساتھ ساتھ پتھر گرنے سے دو تین افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع دی۔ ایسی بھی خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ شمالی مینار کی جالی بھی گر گئی جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ تاریخی جامع مسجد صحیح دیکھ ریکھ نہ ہونے کی وجہ سے خستہ حالی کی شکار ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ طویل مدت سے جامع مسجد کی مرمت نہیں ہوئی ہے اور سید احمد بخاری نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ساتھ اے ایس آئی کو پہلے ہی خط لکھ کر مرمت کا مطالبہ کر چکے ہیں۔